پی پی کا ایم سنگ میل، سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اقلیتی رکن نے کی

کراچی: بلاول بھٹو کی چیئرمین شپ کے بعد پی پی اہم سنگ میل عبور کرنے لگی، سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اقلیتی رکن نے کر کے ایک نئی تاریخ رقم کردی، مہیش میلانی کی صدارت میں ہونے والا اجلاس پاکستانی تاریخ کا پہلا اجلاس تھا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک اقلیتی رکن کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، اس سے پہلے اقلیتی رکن کی جانب سے سندھ اسمبلی کی صدارت قیام پاکستان سے قبل کی گئی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے ضلع تھرپارکر سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی مہیش کمار ملانی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سندھ اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی۔ رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے اسپیکر سندھ اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کی غیرموجودگی میں حکمران جماعت کے دوسرے ارکان بھی اجلاس کی صدارت کرتے رہے ہیں۔

اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے رکن کو پہلی بار صدارت کرنے کا موقع ملا۔سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے اقلیتی ارکان موجود ہیں،تاہم پیپلزپارٹی کے ارکان کی اکثریت ہے، جو اقلیتی نشستوں سمیت عام انتخابات میں منتخب ہوکر اسمبلی پہنچے ہیں۔

صوبائی حکمران جماعت اقلیتی ارکان کو وزارتوں کے قلمدان بھی دیتی رہی ہے۔خیال رہے کہ قیام پاکستان سے قبل سندھ کی قانون سازاسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ایک اقلیتی خاتون تھی۔جیٹھی سپاہ ملانی 1942 سے 1943 تک سندھ کی قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔بعد ازاں وہ دیگر ہندوؤں کی طرح ہندوستان منتقل ہوگئیں۔

اقلیتی رکن کی صدارت میں ہونے جمعے 27 جنوری کے اجلاس میں سندھ طاس معاہدے اور کالا باغ ڈیم پر بحث کی گئی، جس دوران منظور وسان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواب دیکھا ہے کہ کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں ہوگا۔

منظور وسان کی جانب سے خواب کے معاملے پر فنکشنل لیگ کی رکن نصرت سحر عباسی جوش میں آگئیں اور انہوں نے آرڈر آف دی ڈے کی کاپی پھاڑ ڈالی، بعد ازاں اپنی غلطی کا احساس ہونے پر انہوں نے ایوان سے معافی مانگی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی سی آئی میں سندھ کا کیس کمزور ہے، وزیراعلیٰ کو وفاق میں سندھ کے لیے کردار اداکرنا چاہیے، اگر سمندر ٹھٹہ کو نگل گیا تو مراد علی شاہ ذوالفقار آباد کہاں بنائیں گے۔

نصرت سحر عباسی کی جانب سے جوش میں آکر خطاب کرنے پر ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضانے انہیں مشورہ دیا کہ وہ خاموش رہیں، شہلا رضا نے انہیں مذاق میں چیمبر آنے کی دعوت بھی دی۔

شہلا رضا کی جانب سے نصرت سحر عباسی کو چیمبر میں آنے کی دعوت دیئے جانے پرایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔خیال رہے کہ اس سے قبل 21 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں ٹرانسپورٹ پر بحث کے دوران نصرت سحر عباسی کی جانب سے سوال پوچھے جانے پر پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر امداد پتافی نے انہیں چیمبر میں آنے کی دعوت دی تھی۔

اسمبلی میں ایک مرد رکن کی جانب سے خاتون رکن کے لیے ایسے ریمارکس دینے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن بختاور بھٹو زرداری نے نوٹس لیتے ہوئے امداد پتافی کو حکم دیا تھا کہ وہ نصرت سحر سے معافی مانگیں۔چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایات کے بعد 23 جنوری 2017 کو ہونے والے اجلاس میں امداد پتافی نے نصرت سحر عباسی سے معافی مانگی تھی، جس پر نصرت سحر عباسی نے انہیں معاف کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں