Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
تجزیاتی رپورٹ‌:‌ بلدیاتی ادارے کے ساتھ سازش پر نمائندہ جماعت کی غفلت | زرائع نیوز

تجزیاتی رپورٹ‌:‌ بلدیاتی ادارے کے ساتھ سازش پر نمائندہ جماعت کی غفلت

(تجزیاتی رپورٹ: سید محبوب احمدچشی)

بلدیاتی اداروں کےملازمین ان کے مسائل سےغافل ایم کیوایم پاکستان۔ ادارہ ترقیات کراچی ورک چارج ملازمین بارہ ماہ سےتنخواہوں محروم۔  نان کیڈرافسران ادارہ ترقیات کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ

شہرقائدکےبلدیاتی اداروں میں اہل افسران ملازمین کےساتھ ناانصافی کررہے ہیں جس سے سب سے زیادہ ایم کیو ایم پاکستان کے وقتوں میں بھرتی ہوئے ملازمین متاثر ہورہے ہیں، عوامی مسائل کی سیاست پربھی ایم کیو ایم پاکستان اب ویسی آواز اٹھاتی نظر نہیں آتی جیسا ماضی میں دیکھنے کو ملا شاید یہ طریقہ ایم کیو ایم بھول گئے یا پھر کوئی اور مصالحت اس کے پیچھے کارفرما ہے۔

شہرقائدکےادارہ ترقیات کراچی میں ورک چارج ملازمین کےساتھ سندھ حکومت سے مطلوبہ گرانٹ پربات چیت ہو ماسٹرپلان کی کےڈی اے میں واپسی کےساتھ ادارہ ترقیات کے ایک ارب کےقریب بقایاجات کے حوالے سےاسمبلی میں آواز بلندکرنا ہو یا مالی بحُران پرایم کیوایم پاکستان کی  سینئر قیادت اور کنونیئرڈاکٹرخالدمقبول صدیقی کےساتھ تنظیم ایم کیوایم پاکستان بحالی کمیٹی کےسربراہ ڈاکٹرفاروق ستار اوران کی سینئرقیادت کی خاموشی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کوعنقریب (سندھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی) میں تبدیل کرانےجارہی ہے۔


کراچی کے دو میئر ہوں گے تو سندھ کے بھی دو وزیراعلیٰ ہوسکتے ہیں، خالد مقبول صدیقی


مفاہمت کی پالیسی کےساتھ ایم کیوایم پاکستان کی اعلیٰ قیادت بلدیاتی مسائل سمیت ان اداروں کےملازمین کی فریاد اعلیٰ سطع پربلند نہیں کرنا کیا اس جانب اشارہ نہیں کررہا ہےکہ ان مسائل کےلیے آواز بلند کرنےکےاختیارات شاید کوئی اپنےساتھ ہی لے گیا ہے۔

عجب کرشماتی تقدیر لکھوا کرآیا تھا شاید وہ۔۔

  یہاں یہ بات اہم نظرآتی ہےکہ بلدیاتی اداروں میں ایم کیوایم کا ووٹرز اورہمدرد بہت بڑی تعداد میں موجود ہےجن کو مورل سپورٹ نہیں ملی تو پھر آنے والے جنرل اوربلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم پاکستان کے نتائج کیا ہوں گے یہ جاننا زیادہ مشکل نہیں ہوگا ان سب  زمینی حقائق کےساتھ یہ لکھنا بھی ضروری ہےکہ کےڈی اے ایمپلائز یونین کے بانی وسرپرست اعلیٰ نویدانورصدیقی ترجمان عبدالمعروف سمیت صدر۔جنرل سیکرٹری تمام عہدیدران لیبر ڈویژن یونٹ ادارہ ترقیات کراچی  کے ملازمین کے لیئےمسلسل آواز بلند کررہے ہیں۔

اہم ذرائع کےمطابق  اسی جدوجہد کانتیجہ اسطرح سے سامنےآیاکہ سینئر رہنما ایم کیوایم پاکستان خواجہ اظہارالحسن نےسندھ اسمبلی میں ورک چارج ملازمین کابل جمع کرادیاہےادارہ ترقیات میں نااہلی اقرباپروری،پنشن تنخواہوں کےمسائل پیداکرناکرپشن نان کیڈر افسران کی تعیناتیاں سپریم کورٹ کےاحکامات کو نظر انداز کرنا ان تمام ’’سیاہ‘‘خصوصیات اور غیرمتاثر ویژن، غیرمتاثر کن ریکوری، غیرمتاثر کن محکمہ جاتی پالیسی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی اے کوسندھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنانے پرغورشروع کردیا گیا ہے۔


ڈسٹرکٹ سینٹرل کی آبادی 35 لاکھ، کیا ایک اور بلدیہ عظمیٰ بن سکتی ہے؟


بلدیہ عظمیٰ کراچی سے علیحدگی کے بعد یہ دعویٰ دم توڑتا نظرآرہا ہے جس میں کے ڈی اے کومالی اعتبار کے ساتھ مضبوط اور شہرقائد کونئے انداز سے نئی جدت دینے میں کے ڈی اے کا اہم کردارہوگا، یہاں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں وہ کھیل شروع کیاگیاجس کی توقع کی جارہی تھی ایک سازش کے تحت یہاں مالی بحُران پیداکرنے کے لئے کچھ ایسی تعیناتیاں کروائی گئیں جس سے ادارہ ترقیات کراچی کومستقبل میں شدید بُحرانوں کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کے ڈی اے کی جانب سے مالی پوزیشن جان بوجھ کرخراب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سندھ حکومت کویہ جوازفراہم کیاجاسکے کہ آپ کی 20کروڑچالیس لاکھ کی گرانٹ پرہی ادارہ ترقیات کراچی بامشکل تنخواہیں وپنشن پوری کرتا ہے۔

کے ڈی اے کے کرتا دھرتاؤں نے ریکوری سے لیکر ہر ریونیودینے والے محکموں میں ایسی تعیناتیاں کیں جن سے اپنی منشا اورسازش عمل کے ذریعے ایسے کام کروائے جائیں جس سے کے ڈی اے زبوں حالی کا شکارہوجائے اور پھرسندھ حکومت کویہ جواز فراہم کیاجائے کہ اب ہم نے آپ کو پوراگراؤنڈ تیار کردیاہے۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کوسندھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں تبدیل کردیں۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں بلدیاتی اداروں کے بعد ادارہ ترقیات کراچی کو بھی غیرمستحکم کرنے کی اطلاعات گشت کرنے لگی ہیں سندھ حکومت،ادارہ ترقیات کراچی کوسندھ  بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کنٹرول میں دینا چاہتی ہے اوراس سلسلے میں ادارہ ترقیات کراچی میں دانستہ طور پر ملازمین کی تنخواہیں روک کر افراتفری پھیلائے جانے کے ساتھ مختلف امور کو بھی بُری طرح متاثر کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں اہم افسران اپنا کردار اداکررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی زبان کا درجہ حاصل کرنے والی اردو کی زبوں‌ حالی

کنٹریکٹ اور ورک چارج ملازمین کو نکالنے کا عمل بھی ایسے ہی سلسلے کی کڑی ہے ادارہ ترقیات کراچی، کے ایم سی سے علیحدگی کے بعد اب تک کوئی نیا پروجیکٹ یااسیکم متعارف کروانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا ہے جسے قابل ذکر کہا جاسکے اسی طرح افسران باہمی رسہ کشی میں مصروف ہیں اور اس کا فائدہ چھوٹے گریڈ کے چند نااہل خوشامدی اور نان پروفشنل ملازمین بڑی خوبصورتی سے اٹھارہے ہیں اس صورتحال میں احتسابی اداروں کابہت اہم کردار ہوگا۔

اعلی ترین ارباب اختیار اور اعلیٰ عدلیہ کواحتسابی عمل کوشفاف بنانے کیلیے احتسابی اداروں میں مزید اصلاحات وبہتری لانے کے لیئے اپنا انتہائی کرداراداکرناہوگا، اس وقت کے ڈی اے میں مالی بحُران اپنےپورےجوبن پرہے جس کا جو زور لگ رہا ہے وہ لگانے میں مصروف ہے تاکہ ادارہ ترقیات کراچی میں استحکام پیدا ہی نہیں ہوسکے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا حصہ بن جانے تک ادارہ ترقیات کراچی میں انتظامی ومالی لحاظ سے بہتری بھی ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہے ادارہ ترقیات کراچی کے افسران کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو ایسی رپورٹس فراہم کی جا رہی ہیں جس سے ادارہ ترقیات کراچی کا امیج خراب کیا جاسکے۔

اس عمل میں وہ افسران ملوث ہیں جو ادارہ ترقیات کے علیحدگی ادارے کی حیثیت کے حامی نہیں ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ادارے میں کسی نہ کسی طرح بے یقینی کی کیفیت کو برقرار رکھا جائے ادارہ ترقیات کراچی کی یونینزاور ملازمین کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ادارہ ترقیات کراچی خودمختار باڈی ہے اس کی علیحدہ حیثیت کو متاثر کیا گیا تو احتجاج کیا جائےگااندرون خانہ ادارہ ترقیات کراچی کیخلاف کوئی سازش کی گئی تو یہ درست نہیں ہوگا البتہ ادارہ ترقیات کراچی کی علیحدہ جداگانہ اور ”ضم“ نہ کرتے ہوئے اس کی خودمختاری کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اسے مئیر کراچی کے ماتحت میں دینے کے حامی ہیں۔

محبوب چشتی کی دیگر تحاریر

٭ حکومت سندھ سے والدین کا مطالبہ۔۔۔ تحریر محبوب چشتی

٭ کراچی کے بلدیاتی مسائل کی جڑ میئر کراچی اور ایم کیو ایم؟ تحریر سید محبوب احمد چشتی

 * کراچی کی سیاست، اہل نظر کا امتحان۔۔ تحریر سید محبوب احمد چشتی

 قرار داد پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے حق میں جدوجہد، تحریر: سید محبوب احمد چشتی

مئیر کراچی وسیم اختر کراچی کے شہری اداروں کو بلدیہ عظمٰی کراچی کے ماتحت میں دینے کی جو بات کر رہے ہیں وہ درست ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ شہر میں کئی لوکل باڈیز موجود ہونے سے شہر کے مسائل حل کرنے میں دشواریاں درپیش آرہی ہیں محض صفائی ستھرائی کے امور کی بات کی جائے تو سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے بعد سے اب تک کراچی میں کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے میں کہیں بھی بہتری نہیں لائی جاسکی ہے سندھ حکومت بلدیاتی وشہری اداروں کے کام اسی طرح سپرد کرتی رہی تو معاملات میں سد ھار کے بجائے بگاڑ آئے گا اس کے بجائے سندھ حکومت، بلدیاتی وشہری اداروں کو ان کے جائز حقوق دے تو کراچی کے شہری مسائل کو باآسانی حل کیا جاسکتا ہے ادارہ ترقیات کراچی شہرقائد کو کافی آگے لے جاسکتا ہے مگر اسے زمین بوس کرنے والوں اور انکے سہولت کاروں کی سازشوں کوناکام بنانے کیلیئے ان کوششوں میں مصروف چہروں کوبے نقاب کرنے کے لئے ادارہ ترقیات کراچی کے افسران وملازمین کوقانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے کی ضرورت ہوگی۔