پاکستان میں ٹیلنٹ کی قدر اس طرح کی جاتی ہے کہ ہم نئی ایجادات کرنے والوں پر مشکلات کھڑی کردیتے ہیں، پانی سے چلنے والی گاڑی ہو یا جان بچانے والی سستی ادویات کا فارمولا ہم نے ہر بار ہی موجد کو انتقام کا نشانہ بنایا۔
بات یہی ختم نہیں ہوتی اگر ماضی کے اوراق کو پلٹا جائے تو ایک بات سامنے آئے گی کہ ہم نے تو تخلیقی ذہین کے مالک پاکستانیوں پر زمین تنگ کی، انہیں معاشی حوالے سے پریشان کیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر عبدالقدیر خان یا دیگر کوئی ایسی شخصیت جس نے ملک کا نام روشن کرنے یا نئی ایجاد کا تہیہ کیا تو وہ ہمارے لیے خطرہ قرار پائے۔
اب خبر آئی کہ پاک پتن میں ایک نوجوان نےفضائیہ میں جانے کی خواہش پوری نہ ہونے پر اپنا ذاتی جہاز بنایا اور پھر اسے اڑایا، اس کام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
اپنی مدد آپ اڑنے والا چھوٹا جہاز تیار کرنے والے نوجوان فیاض کے خلاف اے ایس آئی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مختلف دفعات شامل کی گئیں۔
مقدمے میں حکومت کے بغیر اجازت جہاز بنانے اور اڑان کے دوران کرتب دکھانے کی دفعات شامل کی گئیں، پولیس باصلاحیت نوجوان کو حراست میں لینے پہنچی تو اُس وقت تک وہ جہاز لینڈ کرچکا تھا۔
دوسری جانب فیاض کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ جہاز کی تیاری میں ایک سال لگ گیا، جس کے لیے نہ صرف اپنی زمین فروخت کرنی پڑی بلکہ نجی بینک سے قرض بھی لیا۔
