لاہور ہائی کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کی رہائی کے لیے تحریری ضمانت مانگ لی، یہ ضمانت اب بات کی ہے کہ وہ رہائی کے بعد امن و امان کی صورتحال خراب نہیں کریں گے۔
علامہ خادم حسین رضوی اور تحریک لبیک کے سیکڑوں کارکنوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد گرفتار یا حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔
متذکرہ کریک ڈاؤن کا آغاز آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف تحریک لبیک کی جانب سے مظاہرے دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
تحریک لبیک کے سربراہ ، رہنماؤں اور کارکنان کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس کی سماعت جسٹس قاسم خان سمیت 2 رکنی بینچ نے کی۔
عدالت نے استغاثہ کے وکیلوں اور پراسیکیوٹر جنرل کو 11 اپریل کی سماعت پر طلب کر کے دلائل دینے کا حکم جاری کیا۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر حافظ الرحمان نے خادم رضوی کیس کی پیروی کی اور وہ بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت حافظ الرحمان (وکیل خادم رضوی) نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ رہائی کے بعد امن و امان کی صورتحال میں خلل نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خادم رضوی بے گناہ ہونے کے باوجود بھی جیل میں قید ہیں، لہذا عدالت ضمانت کی درخواست منظور کر کے انہیں فوری رہائی کا حکم دے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ اس بات کی کون ضمانت لے گا کہ وہ مستقبل میں کبھی نقصِ امن کی صورتحال خراب نہیں کریں گے اور نہ ہی کبھی امن و امان میں خلل ڈالیں گے۔
عدالت نے خادم رضوی سے تحریری ضمانت طلب کرتے ہوئے سماعت 11 اپریل تک ملتوی کردی اور سرکاری وکلا کو بھی آءندہ سماعت پر طلب ہونے کا حکم دیا۔
