Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
فیض آباد دھرنا کیس فیصلہ، تین جماعتوں‌ کے جسٹس فائز عیسیٰ‌ پر تحفظات | زرائع نیوز

فیض آباد دھرنا کیس فیصلہ، تین جماعتوں‌ کے جسٹس فائز عیسیٰ‌ پر تحفظات

اسلام آباد: تحریک انصاف ، ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے فیض آباددھرناکیس کےفیصلےکے معاملے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کردیں۔ 

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی،ایم کیوایم اور شیخ رشید نےنظرثانی کی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائرکردیں۔ تحریک انصاف کی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلہ آئین کی شقوں 10 اے،4،5،25 کی خلاف ورزی ہے جبکہ فیصلے کا پیرا گرام 22 خلافِ قانون اور پیرا گراف 23 ، 24 مفروضوں کی بنیاد پر ہے، دھرنے کا موازنہ تحریک انصاف کے اسلام آباد احتجاج سے کیا گیا۔

اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے کیس کے فیصلے میں موجود مختلف پیراگرافس میں سانحہ 12مئی 2007 کا موازنہ کیا گیا۔

دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی علیحدہ درخواستوں میں سپریم کورٹ سے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی سپریم کورٹ میں دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائرکرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ ’میرے خلاف تحریر کیا جانے والا مواد حذف کیا جائے، میں دھرنے میں شامل تھا نہ کسی پُر تشدد کارروائی کا حصہ بنا، حساس اداروں کی رپورٹ میں بھی میری کسی منفی سرگرمی کا ذکر نہیں ہے‘۔

شیخ رشید نے اپنی درخواست میں کہا کہ عدالت نےرپورٹ کے برعکس میرےخلاف فائنڈنگ دی، کسی کا مؤقف سنے بغیر فیصلہ دینا شفاف ٹرائل کی خلاف ورزی ہے، فیصلے میں مجھ سے متعلق الفاظ حذف نہ کئے گئے تو سیاسی کیرئیر کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ حساس اداروں کی رپورٹ میں82 افراد کا نام تھا جبکہ فیصلے میں صرف میرانام واضح طور پر لکھا گیا، نظرثانی درخواست کے علاوہ دادرسی کاکوئی فورم موجودنہیں ہے لہذا عدالت نظر ثانی کرے۔