کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا اُن کے والد عمر واؤڈا اور شیر نور کو 12 کروڑ روپے سے زائد قرض ادا نہ کرنے پر طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سعودی پاک لیزنگ کمپنی نے وفاقی وزیر ، اُن کے والد کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فیصل واؤڈا اور اُن کے والد نے کاروبار کے لیے 12 کروڑ کا قرض لیا اور ابھی تک ادا نہیں کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصل واؤڈا نے کمپنی سے گھر کی لیز کرائی مگر اب اُسے فروخت کردیا گیا، فیصل واؤڈا کے والد پر کمپنی نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے 2006 میں ساڑھے تین کروڑ روپے قرضہ لیا تھا۔
درخواست میں بتایا گیا کہ عمر واؤڈا نے وعدہ کیا کہ وہ پانچ کروڑ روپے ادا کریں گے ،انہوں نے 2007 میں فیصل واؤڈا کے نام پر پراپرٹی ظاہر کی اور پھر شیر نامی گرانٹیر نے اُسے خرید لیا۔
https://zaraye.com/5203-2/
کمپنی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ فیصل واؤڈا کے والد اب قرض ادا کرنے سے صاف انکار کررہے ہیں، انہیں کمپنی کی جانب سے قانونی نوٹس بھی بھیجے گئے، پہلا 2015 اور دوسرا 2018 میں بھیجا گیا جس میں رقم ادا کرنے کا کہا گیا۔
کمپنی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اجازت دے تو کمپنی فیصل واؤڈا کے ڈی ایچ اے فیز فائیو میں واقع 2سی اور 4 سی پلاٹ فروخت کر کے اپنی رقم حاصل کرسکیں۔ درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اگر دونوں باپ بیٹے عدالتی حکم پر بھی جواب نہ دیں تو ریکارڈ کومدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنا دیا جائے۔
