کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی اس بات پر قائم ہوں کہ ہم عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہیں، چاہے وہ فیصلے ہمیں پسند ہو یا نہ ہوں۔ عدلیہ کی جانب سے جس بات پر مجھے توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا میڈیا سے معلوم ہوا ہے دراصل وہ اس وقت عدلیہ کے اس فیصلے کے جواب میں کہی گئی تھی کہ کراچی میں اگر 500 عمارتیں بھی توڑنا پڑیں تو توڑ دیں، اس پر میں نے کہا تھا کہ یہ زمینی حقائق کے منفی ہے اور اس سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اور اگر پھر بھی عدلیہ نے بحثیت وزیر بلدیات مجھے مجبور کیا تو میں اپنا استعفیٰ تو دے سکتا ہوں لیکن یہ کام نہیں کرسکتا اور میں آج بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سندھ اسمبلی میں سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار صاحب کی جانب سے انہیں توہین عدالت کا نوٹس دینے کی بات میڈیا سے معلوم ہوئی ہے ابھی مجھے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اور اگر عدلیہ نے نوٹس جاری کیا تو میں ضرور عدلیہ میں پیش ہوں گا اور وہاں اپنا موقف بھی پیش کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عدلیہ اور معزز چیف جسٹس صاحب کے فیصلوں پرمکمل اعتماد ہے اور ان کا کراچی کے لئے وژن سے بھی انکار نہیں ہے لیکن جس طرح ہمیں 15 دن اور 30 دنوں میں یہ سب کچھ کرنے کو کہا جارہا ہے، یہ ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ عدلیہ کے احکامات پر ہی کے ایم سے نے ہزاروں دکانوں کو مسمار کیا اور آج تک ہم ان دکانداروں کو متبادل روزگار کی فراہمی نہیں کرسکیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ ہمیں وقت دے، ہم ماہرین کی ٹیم کو بلا کر اس سے مشاورت کریں، اس کا تخمینہ لگائیں اور اس کے لئے فنڈز مختص ہوں تو ہم جس طرح چیف جسٹس صاحب چاہتے ہیں اس طرح ہم کرنے کو تیار ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیربلدیات کا کہنا تھا کہ مجھے نوٹس ابھی نہیں ملا ہے، جب بھی معزز عدلیہ نے مجھے بلایا میں ضرور جاؤں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کوئی توہین عدالت نہیں کی ہے اور اگر اس کے بعد بھی مجھے عدلیہ کوئی سزا دیتی ہے تو میں قبول کروں گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر عدلیہ پھر مجھے یہ احکامات دیتی ہے کہ میں چند روز یا چند ہفتوں میں کراچی کی سینکڑوں عمارتوں کو توڑ دوں تو میں زمینی حقائق عدلیہ کے سامنے رکھوں گا اور اگر پھر بھی بحثیت وزیر بلدیات مجھے اس کام کا کہا گیا تو میں وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنا استعفیٰ پیش کردوں گا کیونکہ وزرات رکھنا یا نہ رکھنا تو میرے بس میں ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس جاری ہیں اور ابھی تک جتنے نکات پر ہم نے بحث کی ہے زیادہ تر پر اتفاق ہوگیا ہے البتہ چند نکات پر اپوزیشن اور ہم میں اختلاف ہے لیکن انشاء اللہ امید ہے کہ یہ سن ہم مل جل کر حل کرلیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم نے صنعتی زونز کوپانی کے نرخوں میں اضافے سے مشتسنعیٰ قرار نہیں دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اضافہ 9 فیصد دیکھا جائے تو زیادہ سے زیادہ 20 سے 22 روپے کا ہوگا، جو روزانہ کا ایک روپیہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقوں کے حوالے سے گذشتہ روز گورننگ باڈی کے اجلاس میں کراچی چیمبر کے ایک رکن نے اپنا موقف رکھا ہے اور ہم نے اصولی طور پر تو یکم جولائی سے منظوری کی اجازت دے دی ہے البتہ صنعتکاروں کی جانب سے ان کے نمائندے کے موقف پر ہم نے کہا ہے کہ اس کو واٹر بورڈ دیکھ لے اور اس کی رپورٹ پیش کردے۔
