Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عید چاند: فواد چوہدری کے ساتھ ہاتھ ہوگیا | زرائع نیوز

عید چاند: فواد چوہدری کے ساتھ ہاتھ ہوگیا

اسلام آباد: چاند کی رویت کے معاملے پر سنجیدگی سے اقدامات کرنے اور بے خوف و خطر بیان دینے والے فواد چوہدری سے حکومت ایک بار پھر کھیل گئی۔

تفصیلات کے مطابق فواد چوہدری نے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکلنالوجی کا قلمدان سنبھالا تو اُس کے بعد سے رویت ہلال کمیٹی کے خلاف ایک محاذ کھولا جس پر مفتی منیب بھی میدان میں آئے۔

فواد چوہدری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چاند دیکھنے کے معاملے پر بلائے جانے والے ایک اجلاس میں چالیس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، اس انکشاف کے بعد تو وزیر صاحب کی بڑی واہ واہ ہوئی۔

قمری کلینڈرپر کوئی اعتراض نہیں، رمضان اور عیدین پر اس کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے، پوپلزئی

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈٹیکنالوجی نے وعدے کے مطابق پندرہویں رمضان تک قمری کیلنڈر متعارف کرایا اور اعلان کیا کہ عید الفطر پانچ جون کو منائی جائے گی البتہ اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ہلال کمیٹی اور علمائے کرام قمری کیلنڈر کو ماننے سے انکاری ہیں بلکہ مفتی منیب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اُن کے نزدیک قرآن و حدیث کے احکامات کے آگے سائنس جوتی کی نوک پر ہے۔

فواد چوہدری نے گزشتہ روز ہی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر چاند دیکھنے کی ایپ متعارف کرانے کے بعد اُس کا لنک شیئر کیا جس میں رویت کے حوالے سے بتایا جائے گا جبکہ یہ بھی بتایا جائے گا کہ چاند کس مقام پر ہے تاکہ اُسے آسانی کے ساتھ دیکھ لیا جائے۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ کے دو روز قبل ہونے والے اجلاس میں عید کے چاند کی رویت کا معاملہ زیر غور نہیں آیا اور عمران خان نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ عید رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر ہی منائی جائے گی۔

فواد چوہدری نے عید کی تاریخ کا اعلان کردیا

چاند کے معاملے پر عید کے بعد مباحثہ ہوگا، قمری کیلنڈر اور ایپ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجا جائے گا جس کے بعد اگر منظوری ملی تو اسے ایوان سے منظور کروایا جائے گا۔