تھر: ہندو لڑکے کو ہراساں کرنے والا شخص گرفتار

آج صبح سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں ایک غیر مقامی ڈرائیور ہندو لڑکے کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اُن سے اللہ اکبر کہنے اور بھگوان کو گالی دینے کی ہدایت کررہا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق مذکورہ شخص کا تعلق رحیم یار خان سے اور نام عبدالسلام داؤد ہے، یہ تھر کول میں بطور ڈرائیور ملازمت کررہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو وائرل ہوئی تو ہر ذی شعور شخص نے اس رویے کی مذمت کی اور ہراساں کرنے والے شخص کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت نے نوٹس لیا اور ایس ایس پی بدین کو کارروائی کا حکم دیا۔
Accused has been arrested by #Sindh Police from Khoski, District Badin https://t.co/F1IclG64XW
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) July 27, 2021
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ ملزم کو ضلع بدین کی گھوسکی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت کی بروقت کارروائی پر صارفین نے بالخصوص مرتضیٰ وہاب اور بالعموم پیپلزپارٹی کے اس اقدام کی تعریف بھی کی ہے۔
"Abuse your Bhagwan", a Hindu child in Tharparkar is being forced by an emplyee of Thar coal block-1. Outsiders in Tharparkar are trying to disturb examplary interfaith harmony. Police directed to arrest the accused immedaitely & lodge FIR.#ArrestAbdulSalamDawood pic.twitter.com/VSvnjTkC4M
— rajar.209 (@rajar209) July 27, 2021
سماجی رضا کار کپل دیو نے ملزم کی گرفتاری کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ ’ہم مل کر سندھ دھرتی اور ملک کی ترقی کے لیے کام کرتے رہیں گے‘۔
Taking quick action, Sindh Police arrested the accused hatemongering man for forcing a Hindu boy to recite Allah o Akbar and abuse his gods from Badin district. Well done, #SindhGovt.
Credit goes to @murtazawahab1 for speedy action. pic.twitter.com/ccvJ3ICSJi
— Kapil Dev کپل دیو (@KDSindhi) July 27, 2021
