کراچی: گھگھر پھاٹک کے قریب واٹر بورڈ کی مین لائن میں ڈوبنے والی 13 سالہ بچی کی لاش رات گئے تک مل نہ سکی۔بچی کے ورثا نے لاش نہ ملنے کی صورت میں قومی شاہراہ پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے ۔
ضلع ملیر کےعلاقے گھگھر پھاٹک میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے کراچی شہر آنے والی پانی کی مرکزی لائن سے پانی بھرتے ہوئے صدیق جوکھیو گوٹھ کی رہائشی 13 سالہ بچی علینہ جوکھیو پانی بھرتے ہوئےپائپ لائن میں جا گری اور ڈوب کر پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے آگے نکل گئی۔اس کی لاش 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود مل نہیں مل سکی تھی۔
لاش کی تلاش کیلئے وزیر اعلی ٰ سندھ کے معاون، پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے صدر سلمان عبداللہ مراد اور ملیر انتظامیہ کے اہلکار یوسی گھگھر کے منتخب نمائندے جائے وقوعہ پہنچ گئے تھے ۔انہوں نے بچی کے ورثاء کو یقین دہانی کروائی کہ بچی کی لاش ڈھونڈنے کیلئے ہم تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔
سلمان عبداللہ مراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ بچی کی لاش کی تلاش جاری ہے ،ہم نے ایدھی کےغوطہ خوروں اور پاکستان نیوی کی مدد لی ہے،ان شااللہ جلد بچی کی لاش کو ڈھونڈلیا جائےگا۔
واٹر بورڈ انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ پانی کی لائن کو محفوظ بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہوسکے۔
