معروف ایکٹویسٹ اور سماجی کارکن عائشہ گلالئی کے والدین کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے غداری اور ریاست مخالف سازش سمیت دہشت گردی کے مقدمے میں باعزت بری کردیا۔
عائشہ گلالئی کے والد پروفیسر اسماعیل اور اُن کی اہلیہ پیرانہ سالی کے خلاف 3 سال قبل دہشت گردی کا پرچہ درج ہوا جس میں انہیں ریاست مخالف سرگرمیوں اور ملک کے ساتھ غداری کا ملزم قرار دیا گیا تھا۔
مقدمہ 7 اے ٹی اے (دہشت گردی) کی دفع کے تحت درج کیا گیا، جس کے بعد پروفیسر اسماعیل کی گرفتاری ہوئی اور پھر وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔
عدالت میں یہ مقدمہ تین سال تک زیر سماعت رہا جس کے دوران پروفیسر اسماعیل اور اُن کی اہلیہ پیرانہ سالی 167 بار عدالت میں پیش ہوئے اور ہر بار اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو جھوٹا ، بے بنیاد قرار دیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں استغاثہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پروفیسر اسماعیل اور اُن کی اہلیہ پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کیس میں بری کیا اور مقدمہ ختم کردیا۔
Today Peshawar anti-terrorism court acquitted my parents in the fake & malafide case of sedition,terrosim & conspiracy against the state after more than 3 years of harassment and innumerable court appearances. I am thankful to those who stood with us during this difficult time. pic.twitter.com/p2yr3YTvPI
— Gulalai Ismail ګلالۍاسماعیل (@Gulalai_Ismail) February 15, 2023
علی وزیرکی رہائی کے بعد ایک اور اچھی خبر ،ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ @Gulalai_Ismail کے والدین کو انسداد دہشتگردی عدالت نے غداری ،ریاست کے خلاف سازش اور دہشتگردی کے مقدمہ میں باعزت بری کردیا۔ @ProfMIsmail اور ان کی اہلیہ پیرانہ سالی کے باوجود3 سال میں 167بار عدالت میں پیش ہوئے pic.twitter.com/zzLRCeI2Wk
— Bilal Ghauri (@mbilalghauri) February 15, 2023
پروفیسر اسماعیل کے عدالت سے باعزت بری ہونے پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں نے انہیں مبارک باد پیش کی۔
