گزشتہ دنوں پاکستان میں مہنگائی کے خلاف ایک مذہبی جماعت نے ہڑتال کی کال دی۔ جس میں کاروباری تنظیموں اور تاجروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ہڑتال کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی تھی اور مہنگائی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ زخیرہ اندوزی مطلب ہر طرح کی اشیاء کو جب بلا ضرورت اسٹور کرلیا جاتا ہے وہ چیزیں مارکیٹ میں نایاب ہو جاتی ہیں اور مصنوعی قلت کی وجہ سے چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور یہ سب وہی بڑے تاجر کرتے ہیں جنھوں نے مہنگائی کے خلاف ہڑتال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
مطلب غریب کو مارا بھی خود اور ساتھ بیٹھ کر مگرمچھ کے نقلی آنسو بھی بہائے مگر سیاسی و مذھبی تنظیمیں چلتی ہی انھی تاجروں کے چندوں سے ہیں وہ یہ بات نا کر سکتے ہیں نا قوم کو سمجھا سکتے ہیں کہ یہ ہی وہی تاجر ہیں جو ایشاء خردونوش کا اتنا بڑا ذخیرہ کر لیتے ہیں کہ تمھیں جو چیز حکومت پچاس روپے کی دینی تھی وہ اب زخیرہ اندوزی کی وجہ سے نایاب ہوگی اس لیے اب وہ گوداموں میں سی تھوڑی تھوڑی نکال کر دو سو روپے کی ملے گی۔
جسے عام زبان میں کہا جاتا ہے بلیک میں مل رہی ہے اس لیے مہنگی ہے اب چونکہ تاجروں کی اس ذخیرہ اندوزی کو اور ٹیکس چوری کو تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں مگر پھر بھی عوام کو انکے گوداموں جسے ویئر ہاؤس کہتے ہیں اس کی جانب نہیں لے جاتے کیونکہ سیاسی مذہبی جماعتیں اسی زخیرہ اندوزی اور ٹیکس چوری سے ہونے والی کمائی کے چندے سے پھل پھول رہی ہیں۔
عوام کے غم وغصے کا رخ ہمیشہ سے ہر دور میں سرکار کی طرف ہی رکھا جاتا کیونکہ جیسے ساس بھی کبھی بھو تھی ویسے اپوزیشن بھی پہلے حکمران تھی اس لیے اپوزیشن اور حکمران مہنگائ کے اصل زمہ داروں کو جانتے ضرور ہیں مگر حقائق نہیں بتاتے کیونکہ کوئ نہیں چاھتا کہ انکا ذریعہ معاش بند ہو اور اگر سیاسی مذہبی لیڈر اور تاجر ملک سے مخلص ہو جائیں تو عوام خوش حال اور ملک ترقی کر سکتا ہے۔
ورنہ ہر آنے والی حکومت ٹیکس لگاتی رہے گی اور تاجر زخیرہ اندوزی اور ٹیکس چوری کر کے سیاسی اور مذھبی جماعتوں کو چندہ دے کر خاموش کرتی رہے گی اور عوام ہر دور میں حکومت کو برابھلا کہ کر اذیت سے اذیت بھری زندگی گزارتی رہے گی۔
- نوٹ: بلاگر اور صارفین کی رائے سے ادارے کی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں، نیز کمنٹس / تحاریر لکھنے والے افراد اپنے الفاظ کے مکمل ذمہ دار ہیں۔
