متنازع مردم شماری، سوشل میڈیا انفلوئنسر نے مہاجر رابطہ کونسل کے احتجاج کی حمایت کردی

کراچی: متنازع مردم شماری پر مہاجر رابطہ کونسل کے احتجاج کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بھی حمایت کردی۔

کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں ہونے والی مردم شماری کیخلاف مہاجر رابطہ کونسل نے کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔

مہاجر رابطہ کونسل نے اپنے اعلامیے میں مردم شماری کے جاری کردہ نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی آبادی تین کروڑ سے زیادہ ہے، ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔

رابطہ کونسل نے اس ضمن میں 28 مارچ کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب بالخصوص کراچی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے بھی مردم شماری پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مہاجر رابطہ کونسل کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سرپھری کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ چلانے والی انفلوئنسر سحر نے لکھا کہ ’کراچی سے تعلق اور انسیت رکھنے والے ہر شخص کا فرض بنتا ہے کہ وہ مردم شماری میں ہونے والی بے ضابطگی کے خلاف یک زبان ہوکر احتجاج کا علم (جھنڈا) بلند کرے‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’اٹھائیس اپریل کو ہونے والی بوگس مردم شماری کے خلاف دی جانے والی احتجاجی کال پر کراچی کی اجتماعی آواز بن کر دکھائیں‘۔

ڈیجیٹل مردم شماری : 5 سال میں کراچی کی آبادی میں صرف 12 لاکھ اضافہ

مہاجر رابطہ کونسل کے احتجاج سے قبل سوشل میڈیا پر #کراچی_کی_گنتی_پوری_کرو ہیش ٹیگ بھی شروع کیا گیا ہے۔

کراچی میں ’مردم شماری ہماری ریڈ لائن‘ ڈیجٹل مہم کا آغاز

واضح رہے کہ اس سے قبل ڈیجیٹل مردم شماری نامنظور ہیش ٹیگ سے سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل مہم چلائی گئی تھی جس پر ہزاروں صارفین نے ٹویٹس کر کے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔