Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
تاش کے پتوں سے 4 عمارتوں کی نقل تیار کرنیکا عالمی ریکارڈ | زرائع نیوز

تاش کے پتوں سے 4 عمارتوں کی نقل تیار کرنیکا عالمی ریکارڈ

کولکتہ :بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ نوجوان نے تاش کے پتوں کا استعمال کرکے اپنے آبائی شہر کولکتہ کی چار عمارتوں کی نقل تیار کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کرلیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ارناو ڈاگا نامی شہری نےتاش کے پتوں سے 4 عمارتوں کی نقل تیار کرکے یہ کارنامہ انجام دینے کیلئے 41 دن سرف کیے اور اس عمل میں پرانا گنیز ورلڈ ریکارڈ توڑ ڈالا۔

بھارتی شہری کا تاش کے پتوں سے تیار شدہ پروجیکٹ 40 فٹ لمبا، 11 فٹ اور 4 انچ بلند اور 16 فٹ اور 8 انچ چوڑا ہے جو تاش کے سب سے بڑے ڈھانچے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کرتا ہے۔

ارناو ڈاگا کی تاش کے پتوں سے تخلیق نے بائرن برگ کا قائم کردہ پچھلا ریکارڈ توڑ دیا جنہوں نے تاش کے پتوں سے تین ہوٹلز کا ڈھانچہ بنایا تھا جو 34 فٹ اور 1 انچ لمبا، 9 فٹ اور 5 انچ بلند اور 11 فٹ اور 7 انچ چوڑا تھا۔

تاش کے پتوں کا استعمال کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے نوجوان ارناو کا کہنا تھا کہ اس نے رائٹرز بلڈنگ، شہید مینار، سالٹ لیک ا سٹیڈیم اور سینٹ پال کیتھیڈرل کی نقلیں بنانے کے لیے تقریباً 143,000 کارڈ استعمال کیے ہیں۔واضح رہے کہ انہوں نے ا پنے آبائی شہر کولکتہ کی چار عمارتوں کی نقل تیار کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔انہوں نے کہ یہ کارنامہ انجام دینے کیلئے 41 دن سرف کیے اور اس عمل میں پرانا گنیز ورلڈ ریکارڈ توڑ ڈالا،ان کی یہ تخلیق نے بائرن برگ کا قائم کردہ پچھلا ریکارڈ توڑ دیا جنہوں نے تاش کے پتوں سے تین ہوٹلز کا ڈھانچہ بنایا تھا جو 34 فٹ اور 1 انچ لمبا، 9 فٹ اور 5 انچ بلند اور 11 فٹ اور 7 انچ چوڑا تھا۔اس کاوش کو بھارت ہی نہیں پوری دنیا میں بے حد پسند کیا جارہاہے ۔ چھوٹی سی عمر میں بڑا کارنامہ انجام دینے والے نوجوان کے لئے دنیا بھر سے تہنیتی پیغامات وصول ہورہے ہیں۔