Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جسٹس (ر) مقبول باقر نے عمارتوں کے نقشوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی | زرائع نیوز

جسٹس (ر) مقبول باقر نے عمارتوں کے نقشوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

کراچی: نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 17 اگست سے پہلے ہر ماہ کتنے عمارتی نقشے پاس کرتے تھے اور اب کتنے پاس کرتے ہیں۔

جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ 17 اگست سے پہلے ہر ماہ کتنی غیرقانونی عمارتیں سیل کرتے تھے اور اب کتنی سیل کیں؟۔

جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نقشے پاس کرنے کے کام کو زیر التوا کرتی جا رہی ہے۔ بورڈ آف روینیو سے بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سب رجسٹرار کے دفاتر میں 17 اگست سے پہلے ہر ماہ مختلف کیٹیگریز میں کتنی رجسٹریز کی گئیں اور اب کتنی کر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکایات محصول ہو رہی ہیں کہ سب رجسٹرار کے دفاتر میں بھی رجسٹریز کا کام سست روی کا شکار ہے۔ پولیس موبائلز اور سرکاری گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لئے اقدامات لیتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کو اپنی گاڑیوں کا لاگ بک مینٹین کرنا ہوگا۔

جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہاکہ لاگ بک میں تحریر ہونا چاہئے کہ گاڑی کہاں گئی تھی اور کس کام سے گئی تھی، گاڑی جس سرکاری کام سے گئی تھی اس کا کتنا فاصلا تھا اور کتنا پیٹرول خرچ ہوا اور کتنی مائلیج کے بعد گاڑی کا آئل اور آئل فلٹر کب تبدیل ہوا اور کب دوبارہ تبدیل ہونا ہے۔ لاگ بک کو سینئر آفسر ویریفائے کرے جس کو وقتاً فوقتاً انسپیکشن ٹیمز چیک کرینگی۔

نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ یہ تمام رپورٹس 17 اگست سے پہلے کے تین ماہ اور اس کے بعد ہر ماہ کے حساب سے ایک ہفتے کے اندر سی ایم سیکریٹریٹ بھیجی جائیں۔