شمالی وزیرستان سے منتخب ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رکن اسمبلی سمیت 13 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ علی وزیر اور اُس کے ساتھیوں نے عوام کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا، یکم مئی کو شیوہ کے مقام پر ہونے والے جلسے مٰں ریاست مخالف نعرے لگائے گئے جس کی وجہ سے ملکی سلامتی کو خطرات درپیش ہوئے۔ پی ٹی ایم کی جانب سے یکم مئی کو مہمند ڈیم کی تعمیر کے سنگِ بنیاد کی تقریب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ڈیم کے حوالے سے مقامی افراد یا آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
پاکستان 24 نیوز کے مطابق شمالی وزیرستان میں کاٹی جانے والی ایف آئی آر پولیس یا حساس ادارے کی اطلاع پر نہیں بلکہ ڈی پی او نے انٹیلی جنس اطلاع یا خصوصی رپورٹ کی بنیاد پر درج کرائی۔ مقدمے کے مطابق ملزمان نے احتجاج کیا اور فوج کے خلاف نعرے لگائے۔
پی ٹی ایم کے چند عناصر غیروں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں، آرمی چیف
مقدمے کے مطابق علی وزیر اور ساتھیوں نے یکم مئی کو شیواہ کے مقام پر جلسے میں ریاست مخالف نعرے لگائے ۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق شمالی وزیرستان جلسے میں ریاست مخالف نعرے لگا کر ملکی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ایف آئی آر میں وہی الزامات دہرائے گئے ہیں جو چند روز قبل فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں عائد کیے تھے ۔
جتنی آزادی دینی تھی دے دی، پی ٹی ایم سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں، آصف غفور کی وارننگ
