Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
کراچی سرکلر ریلوے: ’’ہمارا قانونی گھر تھا، لیز تھی پھر بھی توڑ دیا، اب کہاں جائیں‘‘ | زرائع نیوز

کراچی سرکلر ریلوے: ’’ہمارا قانونی گھر تھا، لیز تھی پھر بھی توڑ دیا، اب کہاں جائیں‘‘

کراچی: سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ کراچی سرکلر ریلوے ٹریک پر بنائے جانے والے مکانات مسمار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلی چڑھائی غریب آباد میں ہوئی، یہ اردو بولنے والوں اکثریتی علاقہ ہے، جہاں پر تقریباً 17 ہزار گھروں کو مسمار کیا گیا، متاثرین کا دعویٰ ہے کہ اُن کے پاس گھروں کی لیز بھی موجود تھی۔

بزرگ خاتون کا کا کہنا تھا کہ انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور بغیر اطلاع کے کارروائی کی گئی، گھروں کو مسمار کرنے کے دوران انتظامیہ گھروں کے ساتھ سامان کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے جس کی وجہ سے غرباء کی تمام جمع پونجی لگ گئی۔

مجاہد کالونی کی رہائشی خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اب کھلے آسمان تلے زندگی بسر کریں گے کیونکہ اُن کے پاس لیز بھی تھی اور تمام قانونی دستاویزات موجود تھیں مگر انتظامیہ نے ایک نہ سنی اور گھر کو مسمار کردیا، اب ہم کہاں جائیں۔ کس کو اپنا دکھ سنائیں‘‘۔

https://twitter.com/FawadHazan/status/1134788452359245824

ایک بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی سالوں تک بجلی، گیس کے بل ادا کیے، ان ہی مکانوں کے پتوں پر ووٹ رجسٹرڈ کراوائے اور ڈالے، مردم شماری ان ہی مکانوں پر ہوئی، یہاں ہمیں بستے ہوئے پوری زندگی بیت گئی، اب ہم کہاں جائیں گے۔

متاثرین میں سے اکثر تعداد گھر مسمار ہونے کے بعد کھلے آسمان تلے زندگی بسر کررہی ہے، پچاس برس سے زائد عرصوں تک بنجر زمین کو آباد کر کے رونق بخشنے والے افراد کے حق میں اب کوئی سیاسی جماعت بھی آواز نہیں اٹھاتی۔

https://twitter.com/IqShoaib/status/1134425915088416772

غریب آباد کے ایک متاثرہ نوجوان کا کہنا تھا کہ ’’الیکشن میں اپنے اپنوں کے کام آتے ہیں اور اپنوں کا ووٹ اپنوں کے لیے کا نعرہ لگانے والے ہمیں ٹوٹتا دیکھ کر خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں اور ہماری بے بسی پر ہنس بھی رہے ہیں جبکہ یہ حکومت نے ہی لیز کر کے دیے‘‘۔

ایک اور بزرگ شہری نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ بتایا کہ ’’بیٹا ہم ہندوستان میں بھی صاحب زمین تھے یہاں آکر جھونپڑی سے گھر بنایا اور پھر اُسے قانونی کروایا مگر اُسے بھی چھین لیا گیا‘‘۔