نیوز ون اور دیگر چینلز سے وابستہ رہنے والی خاتون صحافی نادیہ مرزا نے دعویٰ کیا ہے بانی ایم کیو ایم نے بھارت میں شہریت حاصل کرنے کی خاطر ہندو مذہب اختیار کرلیا۔
اپنے تازہ ویڈیو لاگ میں نادیہ مرزا نے انکشاف کیا کہ برطانوی اخبار نے یہ خبر شائع کی جس کے بعد اُن کی ایڈیٹر سے بات بھی ہوئی اور انہوں نے تصدیق کی۔ خاتون صحافی نے بتایا کہ بانی ایم کیو ایم کے دادا مفتی تھے۔
یاد رہے کہ بھارت کی لوک سبھا اور راجیو سبھا نے حال ہی میں غیر مسلموں کو شہریت دینے کا بل منظور کیا ہے جس کے خلاف آسام و دیگر علاقوں میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں، بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بل کی شدید مخالفت کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بانی ایم کیو ایم نے کارکنان سے خطاب کرتے اور بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے مودی حکومت سے ساتھیوں سمیت اسائلم مانگنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ میں نے مودی کو دو خط بھی تحریر کیے مگر اُن میں سے کسی کا جواب نہیں آیا۔
بانی ایم کیو ایم کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو، ’’خوشی ہے والد یہ دن دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے‘‘
الطاف حسین کا کہنا تھا کہ بھارت میں میرے آباؤ اجداد کی قبریں ہیں، بھارتی حکومت ہمیں شہریت دے ہم وہاں آکر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے اور خاموشی سے زندگی گزاریں گے۔
بھارت سے سیاسی پناہ دینے کی درخواست، بانی ایم کیو ایم بڑی مشکل میں
