بڑی خبر: صحافی بے گناہ قرار، سندھ ہائی کورٹ نے نصراللہ کو بری کردیا

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور پریس کلب کے متحرک صحافی نصراللہ کو بری کردیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں کالعدم تنظیم کا مواد برآمد ہونے اور رابطے رکھنے اور دہشت گردوں کی معاونت پر پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف نصراللہ نے سندھ ہائی کورٹ مین درخواست دائر کی۔
سندھ پولیس نے صحافی کی گرفتاری کے لیے پریس کلب پر بھی چھاپہ مارا تھا جس کے بعد انہیں گھر سے گرفتار کر کے دعویٰ کیا گیا کہ اُن کے تعلقات کالعدم تنظیموں سے ہیں اور اُن کے قبضے سے ایسا لڑیچر برآمد ہوا جو رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
ملک بھر کے صحافیوں، صحافتی تنظیموں اور ایشیائی صحافتی تنظیموں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے اور پولیس کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق کراچی پریس کلب میں جس وقت چھاپہ مارا گیا اسوقت تین انتہائی مطلوب ملزمان میٹنگ میں موجود تھے. جنہیں میٹنگ میں موجود افراد نے شور شرابہ اور اہلکاروں کے سامنے مزاحمت کرکے فرار کرادیا۔
کراچی پریس کلب، دہشت گردوں کی معاونت کا الزام،انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں
حساس اداروں نے کارروائی کر کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا جس کی شناخت نصراللہ چوہدری کے نام سے ہوئی، ملزم مذہبی جماعت کے سوشل میڈیا ونگ کا انتہائی اہم رکن بتایا جاتا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں مزید چھاپے اور گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
