سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں اب بڑی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک دور تک مہاجر مخالف سیاست اور انتخابی دنوں میں بالخصوص اس نعرے کی بنیاد پر اندرون سندھ میں ووٹ لینے کے الزام کو پیپلزپارٹی اب ختم کرتی نظر آرہی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی میں ایم کیو ایم کے سابق رہنماؤں اور کارکنان کی شرکت کے بعد اب پی پی میں مہاجر قبولیت نظر آرہی ہے جس میں کسی حد تک ایک بڑا کردار سابق رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور کا بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق خواجہ سہیل منصور نے بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور سابق صدر آصف علی زرداری سے اس معاملے پر گفتگو کر کے انہیں مہاجروں کی قبولیت اور برابری کے حوالے سے کسی حد تک قائم کردیا ہے۔
خواجہ سہیل منصور کی کاوشوں کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے سابق اراکین اسمبلی و رابطہ کمیٹی ممبران کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اور پھر ضلع وسطی کے انتخابات میں مرکزی اسٹیج سے ’نعرے بھٹو، نعرے مہاجر / جئے بھٹو جئے مہاجر‘ ان نعروں کی عکاسی کرتے ہیں۔
غیر سیاسی نوجوانوں ’نوجوانان مہاجر‘ کی جانب سے رواں سال چوبیس دسمبر کو بھی ’مہاجر ثقافتی دن‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر پیپلزپارٹی نے نہ صرف کھلے دل سے تسلیم کیا بلکہ اس حوالے سے خاص پوسٹر جاری کر کے بھی سب کو خوش گوار حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیںتمام مہاجروں کو یوم ثقافت کی ڈھیروں مبارک باد ❤????????#MuhajurCultureDay2023#یوم_مہاجر_ثقافت pic.twitter.com/jAaCUYSZ1T
— Ali Ayub (@Alii_Ayub) December 23, 2023
اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں اردو بولنے والے رہنماؤں کے بیانات اور پیپلزپارٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں شہلا رضا نے کہا کہ جس دن مجھے لگا کہ اردو بولنے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو میں پارٹی چھوڑ دوں گی۔
بانیانِ پاکستان نے دی تھی جان تب سجا تھا یہ گلستان
اہل ہجرت کو ثقافتی دن مبارک#MuhajirCultureDay2023 pic.twitter.com/ZKdS21LpNB— Ali Ayub (@Alii_Ayub) December 23, 2023
واضح ہے کہ مہاجر ثقافتی دن کی مہاجر سیاست کرنے والی کسی سیاسی جماعت نے تائید نہیں کی تاہم امریکا میں مقیم غیر سیاسی تنظیم وائس آف کراچی کے چیئرمین ندیم نصرت نے اس دن کو بھرپور انداز سے منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر تمام دھڑوں لندن، حقیقی اور پاکستان کی قیادت اس معاملے پر بالکل خاموش ہے۔
