Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
#کراچی_کو_صوبہ_بناؤ مہم زور و شور سے جاری، مراد علی شاہ نے معافی مانگ لی | زرائع نیوز

#کراچی_کو_صوبہ_بناؤ مہم زور و شور سے جاری، مراد علی شاہ نے معافی مانگ لی

کراچی: سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی کراچی کو صوبہ بناؤ کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم نے ایسا زور پکڑا کہ ایوان اور قومی اسمبلی میں بھی اس کا تذکرہ ہوا۔

سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبہ مانگنے والوں اور نئے صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت بھیجی اور کہاں تھا کہ ہم سندھ دھرتی کی تقسیم کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

متحدہ اراکین اسمبلی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ کر تقریر سنتے رہے اور عوامی سطح پر انہوں نے عوام کو مشتعل کرنے کی ضرور کوشش کی تاہم اس دوران اُن کا کوئی حربہ کام نہ آیا۔

کراچی کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر #کراچی_کو_صوبہ_بناؤ  کے نام سے ہیش ٹیگ شروع کیا، یہ ہیش ٹیگ عوامی مطالبے کے طور پر اس طرح ابھر کر سامنے آیا کہ ہر شہری نوجوان، بزرگ، خواتین، بچوں نے اپنا حق مانگا۔

سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں کے بعد سندھی قومی پرستوں اور دیگر لوگوں نے صوبہ مانگنے کو ملک توڑنے کی سازش قرار دیا، امریکا اور دیگر بیرونِ ملک بیٹھے لوگ دیارِ غیر میں بیٹھ کر دھرتی کے تحفظ کی قسم کھاتے دکھائی دیے۔

دوسری جانب مقامی افراد میں صرف اردو اسپیکنگ نہیں بلکہ سندھی، پختون، پنجابی اور دیگر کراچی میں بسنے والی قومیتوں کے لوگ تھے جنہوں نے #کراچی_کو_صوبہ_بناؤ کی آواز بلند کی۔

 

سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے تحت صوبہ مانگنا اور اس کا مطالبہ کرنا ہمارا آئینی اور بنیادی حق ہے اور ہم بغیر کسی سیاسی جماعت کے اپنے مشن کو جاری رکھیں گے۔

نوجوانوں نے سندھ اسمبلی میں ہونے والی متنازع تقریر پر مراد علی شاہ کو قانونی نوٹس بھی بھیجا جس کے بعد انہوں نے گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی۔

سوشل میڈیا پر جہاں ک#کراچی_کو_صوبہ_بناؤ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے وہی مراد علی شاہ کی تقریر پر خاموشی اور ایم کیو ایم کی طرف سے مشترکہ احتجاج نہ ہونے پر صارفین تلخ سوالات کررہے ہیں اور انہوں نے واضح اعلان کردیا کہ آئندہ انتخابات میں ان فریقوں کو کسی صورت ووٹ نہیں دیں گے بس جو صوبے کے لیے اقدامات کرے گا ووٹ اسی کو دیں گےٗ۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔