Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
گننا چھوڑیں۔۔۔۔آئیں صرف اندازہ لگاتے ہیں.. تحریر فیاض قائم خانی | زرائع نیوز

گننا چھوڑیں۔۔۔۔آئیں صرف اندازہ لگاتے ہیں.. تحریر فیاض قائم خانی

گننا چھوڑیں۔۔۔۔آئیں صرف اندازہ لگاتے ہیں ….. مردم شماری کا پورا عمل مشکوک ہو چکا ہے

شہریوں کے روز مرہ معمولات آبادی بتاتے ہیں

حالیہ جاری مردم شماری میں بھی ایک بات تو طے ہے کہ کراچی سمیت شہری سندھ کے ساتھ پچھلی چھ مردم شماری کی طرح وہ ہی سلوک کرنا ہے جو پہلے کرتے رہیں ہیں، کراچی کی بات کریں تو ابھی تک سامنے والے نتائج چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ اے شہر لاوارثاں تیری قسمت میں ریاستی بے اعتنائی کبھی ختم نہیں ہوگی، ایک ایک آبادی جو ایک شہر کا نمونہ پیش کر رہی ہیں،وہاں سے جو اعداد و شمار منظر پر آرہے ہیں لگتا ہے کثیرالمنزلہ عمارتوں میں انسان نہیں جنوں کا بسیرا ہے جو نظر نہیں آرہے ہیں.

ہماری تاریخ گواہ ہے کہ پچھلی چھ مردم شماری میں لوگوں کو گننے کی بجائے صرف اندازوں پر سوچ سمجھ کر اعداد و شمار جاری کہے گئے تھے، آئیں چلیں زندہ انسانوں کو چھوڑیں، کچھ مادی چیزوں پر بات کر لیتے ہیں، دوسرے لفظوں میں اندازے لگا لیتے ہیں، کہ کراچی میں اندازآ کتنے لوگ بستے ہوں گے، آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ ڈیٹا جمع کیا، ہزاروں سرکاری اہلکاروں کی جگہ یہ کام چند افراد بھی کر سکتے ہیں ادارہ شماریات اس ڈیٹا پر شہر کی آبادی ڈکلیئر کر دے۔

ملکی و بین الاقوامی مستند زرائع بتاتے ہیں کہ کراچی میں میں 7۔2 فیصد کے حساب سے لوگ پاکستان بھر سے کراچی ہجرت کرتے ہیں، 1998 کی مردم شماری کے بعد گزشتہ 25 سال کا اسی تناسب سے کراچی کی آبادی کا اندازہ لگایا جائے تو اصل اعداد و شمار سامنے اجائیں گے۔

حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں برتھ ریٹ 7۔3 فیصد ہے، ہر ہزار کی آبادی میں 28 بچے پیدا ہوتے ہیں، اور مرنے والوں کی تعداد ہر ہزار پر 1۔7 ہے، 1998 کی مردم شماری کے بعد برتھ ریٹ اور آبادی منتقلی کے تناسب سے بھی اگر 2023 میں کراچی ابادی کا اندازہ لگایا جائے تو حقیقت سامنے اجائے گی۔

کشور زہرہ کی گراں قدر خدمات۔۔ تحریر فیاض قائم خانی

کراچی میں 93 بڑی رجسٹرڈ فلور ملز ہیں، جن کو سندھ حکومت کے محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کا کوٹہ دیا جاتا ہے، سرکاری کوٹے کے علاوہ یہ فلور ملز اوپن مارکیٹ سے گندم کی خریداری الگ کرتی ہیں، محلوں میں تقریبآ 135 کے قریب موجود چھوٹی بڑی چکیاں الگ ہیں جو اپنی گندم خریدتی ہیں جن سے محلے کی سطح پر مقامی لوگ آٹا خریدتے ہیں۔

کیا یہ کوئی مشکل اور پیچیدہ کام ہے کہ ان فلور ملز اور چکیوں کا ڈیٹا جمع کر لیا جائے، جو کہ سندھ حکومت کے پاس موجود ہے، کراچی میں کتنی گندم منگوائی جاتی ہے کتنی گندم کوٹے پر فلور ملز کو دی جاتی ہے، اور یہ فلور ملز اور چکیاں روزانہ کتنا آٹا بنا کر فروخت کرتی ہیں، جب پکوان ہاوس والا بتا سکتا ہے کہ اتنے لوگوں کے کیے اتنا کھانا بنے گا تو کیا ادارہ شماریات ایک پکوان ہاوس والے باورچی سے بھی گیا گزرا ہے کہ حساب نہ لگا سکے۔

کراچی میں نادرا کے 3 میگا سینٹر کے علاوہ 22 کے قریب شناختی کارڈ آفسز موجود ہیں، غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے لیے نارا آفسز اس کے علاوہ ہیں، نادرا تو بہت دعوے دار ہے کہ ہمارے نظام کی دنیا مثالیں دہے رہی ہے، کئی ممالک تو ہمارا بنایا ہوا سسٹم لینے کے لیے مرے جارہے ہیں، کراچی سمیت پورے ملک میں ایک ایک پاکستان ہمارے پاس رجسٹرڈ ہے۔

مہاجر صوبے کے خلاف اتحاد، تحریر فیاض قائم خانی

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نادرا) کے باوثوق ذرائع کے مطابق اس وقت 80 فیصد سے زیادہ کراچی کے شہری شناختی کارڈ رکھتے ہیں، نادرا تو حکومتی ادارہ پے، اس کے ڈیٹا پر تو ادارہ شماریات کو کوئی شک نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا یہ ہے کہ کراچی میں تقریبآ 90 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، ووٹر 18 سال سے زائد عمر کے افراد بنتے ہیں، پاکستان دنیا میں برتھ ریٹ کے حساب سے چند بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، 90 لاکھ ووٹرز کو بھی اگر صحیح مان لیا جائے تو 18 سال سے کم عمر کی آبادی کا اندازا لگایا جاسکتا ہے جو کہ یقینآ 18 سال سے بڑی عمر کے لوگوں سے دگنی تعداد میں ہوگی، یہ ہی آبادی کا اندازہ لگانے کا عالمی فارمولا بھی ہے۔

کراچی میں سرکاری و پرائیویٹ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں اور بچوں کا ریکارڈ دستیاب ہے، ان تعلیمی اداروں میں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی گنتی کوئی مشکل کام نہیں، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں کی آبادی کتنی ہے۔

چار موبائل کمپنیاں کراچی میں کام کررہی ہیں، پورے شہر میں ٹاورز موجود ہیں روز کروڑوں لوگ بیلنس لوڈ کرتے ہیں، کیا ان کمپنیوں کے پاس اپنے صارفین کا ریکارڈ موجود نہیں کہ کراچی میں کتنے لوگ موبائل استعمال کرتے ہیں۔

جو بویا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ کاٹیں گے، تحریر فیاض قائم خانی

کے ایم سی، صوبائی محکمہ ٹریفک انجینئرنگ اور ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے پاس کراچی میں چلنے والے گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے کہ اس وقت کراچی کی سڑکوں پر کتنی دو اور چار ویل کی گاڑیاں موجود ہیں۔ کراچی میں چھ پیٹرولیم کمپنیاں کراچی میں موجود سیکڑوں پیٹرول پمپس کو پیٹرولیم مصنوعات سپلائی کرتے ہیں، کراچی بھر میں ان پیٹرول پمپس پر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی کھپت آبادی کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے۔

کے الیکڑک اور سوئی سدرن گیس کے ادارے کراچی میں موجود گھروں میں بلز بھیجتے ہیں، مضافاتی علاقوں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو سٹل ایریاز میں موجود گھروں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اب ایسا تو ممکن نہیں کہ خالی زمین پر کے الیکٹرک اور سوئی سدرن والے بل پھینک کر آتے ہیں، گھروں کی تعداد سے افراد گننا کوئی الجبرا نہیں ہے۔

کراچی واٹر بورڈ خود کہتا ہے کہ کینجھر جھیل اور حب ڈیم سے ملنے والا پانی بمشکل کراچی کی 42 فیصد آبادی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، 58 فیصد آبادی کو پانی دستیاب نہیں، کراچی کی چار پانچ بڑی آبادیوں میں برسوں سے پانی ہی میسر نہیں، اگر بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک فرد کو روزانہ پانی کی ضرورت کے فارمولے سے واٹر بورڈ کو ملنے والے پانی کا تخمینہ لگائیں تو ادارہ شماریات کو کراچی کی آبادی کا اندازہ ہو جائے گا۔

کراچی میں ’مردم شماری ہماری ریڈ لائن‘ ڈیجٹل مہم کا آغاز

ان چند طریقوں کے علاوہ بھی بہت سے ایسے پیمانے موجود ہیں جو کسی بھی شہر کی آبادی کا تخمینہ لگانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، شرط یہ ہے کہ نیک نیت کا ہونا لازمی ہے کہ دیانتداری سے انسانوں کو شمار کیا جائے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ یہ پیرا میٹرز کوئی حتمی ہوتے ہیں لیکن نتائج کا خاکا سامنے ضرور لے اتے ہیں اور عممومی شکل واضع ہوجاتی ہے کہ انداذآ کتنی آبادی ہے یا ہونی چاہئے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اوائل سے مردم شماری پر ایک ڈھونگ رچایا جاتا ہے، چند طاقتور افراد ایک ٹیبل کے گرد بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کہاں کی آبادی کتنی دکھانی ہے، جب فیصلے چند افراد ہی جہاں کرنے ہوں وہاں مردم شماری کے اس ڈھونگ پر قوم کے اربوں روپے اڑانے کا کیا مقصد ہے؟


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ہمیں ای میل کرسکتے ہیں۔