خوشاب: جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سال میں ہم نے آئی ایم ایف کو پاکستان فروخت کیا ہے۔پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دباو ڈالا جارہا ہے۔
الرحمان نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد آئی ایم ایف ایک نیا معاہدہ کررہا ہوتا ہے اور ہمیں اپنی شرائط پر امداد و قرض دیتا ہے ۔ ہم حکم مان کر سینہ چوڑا کرتے ہیں ، عالمی اداروں کا کسی دوسرے ملک پر دباو نہیں ہے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ گزشتہ تین سال میں ہم نے آئی ایم ایف کو ملک بیچا ہے۔ ہمارے ملک میں مافیاز ڈالرز کا استعمال کررہے ہیں جبکہ نشانے پر صرف سیاستدان ہوتا ہے اور پسِ پردہ حکمرانی بھی کوئی اور کرتا ہے۔
فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ صرف پاکستان پر ہے۔ اسرائیل کو کیوں تسلیم کریں وہ تو ایک ناجائز حکومت ہے۔ فلسطین کو تسلیم کرنے والی بات کہاں چلی گئی۔انہوں نے کہا کہ میں سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی دنیا کے سربراہان بتائیں کہ فلسطین کے معاملے پر آپ کا موقف کہاں دفن ہوگیا۔
فضل الرحمان نے کہا عام آدمی کی تربیت یوں کی جارہی ہے کہ صرف نماز پڑھ لی جائے جبکہ اسلام انسانی حقوق کے تحفظ کا باقاعدہ نظام رکھتا ہے۔ جب تک ہم قرآن و سنت کو رہنما نہیں سمجھیں گے تب تک خوشحالی نہیں آئے گی۔ پارلیمنٹ میں ایسے لوگوں کو بھردیا جاتا ہے جنہیں قرآن و سنت کا علم نہیں ہوتا۔ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کرکے حکومت بنائی گئی۔ ہماری نوجوان نسل کو اس حد تک کھائی میں پھینکا گیا ہے کہ وہ ہر طرح کی اخلاقیات سے دور چلا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین سال میں ہم نے آئی ایم ایف کو ملک بیچا ہے۔ ہمارے ملک میں مافیاز ڈالرز کا استعمال کررہے ہیں جبکہ نشانے پر صرف سیاستدان ہوتا ہے اور پسِ پردہ حکمرانی بھی کوئی اور کرتا ہے۔
