ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ کراچی کے تاجر ملک بھر کو ناصرف بھرپور ٹیکس دیتے ہیں بلکہ روزگار بھی فراہم کرتے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان رنچھوڑ لائن ٹاؤن کے زیرِ اہتمام بلوچ پارک میں عوام الناس کے لیے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
خواجہ اظہار نے کہا کہ اگر مردم شماری درست ہو گئی تو صوبے کی تحریک لاڑکانہ سے چلے گی۔ اہل کراچی کی خواہش تھی کہ یکجا ہو کر شہر کا مقدمہ لڑیں، تینوں فریق اپنی جگہ کراچی کا مقدمہ لڑ رہے تھے لیکن عظیم مقصد کو نقصان پہنچ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط اتحاد سے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں مضبوط فیصلے کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ اس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ مردم شماری تھا جس کی چوتھی مرتبہ توسیع ایم کیو ایم نے کرائی ہے، پنجاب کی بھی 6 نشستیں کم ہو رہی ہیں لیکن وہاں کی جماعتیں میوزیکل چیئر کھیلنے میں مصروف ہیں۔ پورے شہر بالخصوص تاجر برادری کا فیصلہ تھا کہ موجودہ نظام میں لوکل گورنمنٹ نہیں چاہیے، اسی لیے ہم نے بائیکاٹ کیا جو جماعت اسلامی کی حالت دیکھ کر بالکل درست ثابت ہوا۔
ڈیجیٹل مردم شماری : 5 سال میں کراچی کی آبادی میں صرف 12 لاکھ اضافہ
خواجہ اظہار نے کہا کہ نوجوان بچے جو تبدیلی کی راہ پر چل پڑے تھے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے میں شہر کا نقصان تھا، ہمارے 7 ایم این اے اگر رہتے بھی تو پی ٹی آئی کی کشتی نے ڈوبنا تھا۔ عدلیہ اور اداروں کی توہین میں عمران خان کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ ہمارے اوپر تالی بجانے کے مقدمات چل رہے ہیں، سالوں سے کارکنان لاپتہ ہیں جبکہ پنجاب میں سافٹ ویئر اپڈیٹ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ کارکنان لاپتہ ہیں جبکہ لاپتہ کارکنان کیا ہوتے ہیں ابھی جانتے ہی نہیں، علی زیدی کو گرفتار کیا گیا افسوس ہوا لیکن ہمارے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ عمران خان، نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بننا چاہتے ہیں لیکن ان سے پوچھا جائے کہ اب تک پاکستان کے لیے کیا کیا۔ ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہو تو تکلیف ہو جاتی ہے۔
مردم شماری کیلئے نادرا ریکارڈ سے مدد لی جائے،گورنرسندھ ، احسن اقبال کو خط
خواجہ اظہار نے کہا کہ موجودہ نظام میں اگر میئر لے بھی آتے تو وسیم اختر کی طرح بے اختیار ہوتے۔ اٹھارویں ترمیم میں عام آدمی کیلئے کچھ نہیں، پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجہ نظام کی خرابی ہے جو کہ آئین پاکستان ہے۔ غریب و متوسط طبقے کی نمائندگی جاگیر دار وڈیروں کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ہی اصلاحات پیش کر رہی ہے، جو ملک کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے ناگزیر ہیں ۔
